حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جعفریہ سپریم کونسل جموں وکشمیر پاکستان کے چیئرمین سید زوار حسین نقوی ایڈووکیٹ نے ایران میں انقلابِ اسلامی کی سالگرہ کے موقع پر کہا ہے کہ انقلابِ اسلامی، امام خمینیؒ کی ولولہ انگیز قیادت اور ایرانی عوام کی بے مثال قربانیوں کا وہ تاریخی ثمر ہے جس نے پوری دنیا میں ظلم و استکبار کے خلاف ایک نئی فکری، سیاسی اور تہذیبی بیداری پیدا کی۔ یہ انقلاب نہ صرف ایران، بلکہ امتِ مسلمہ اور انسانیت کے لیے ایک زندہ مثال بن کر ابھرا، جس نے قرآن و سنت کی روشنی میں نظامِ عدل و قسط کے قیام کی راہ ہموار کی۔
انہوں نے کہا کہ آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی بصیرت افروز رہبری میں یہ انقلاب آج بھی استقامت، شعور اور مزاحمت کی علامت بنا ہوا ہے۔ چھیالیس برس سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود امریکہ، یورپ اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے مسلسل معاشی پابندیوں کے باوجود ایران نے سائنس و ٹیکنالوجی، ایٹمی توانائی،زراعت، طب، دفاعی صلاحیت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے حساس شعبوں میں حیرت انگیز ترقی کی ہے، جو اس قوم کے عزم و استقلال اور خدا پر توکل کی روشن دلیل ہے۔
سید زوار نقوی نے کہا کہ انقلابِ اسلامی ایران نے سیاسی و ثقافتی میدانوں میں بھی دنیا کو متاثر کیا۔ آج ایران بین الاقوامی سطح پر اپنی خودمختار پالیسیوں، جرات مندانہ موقف اور انسانیت دوست خارجہ حکمتِ عملی کے ذریعے دنیا میں اپنا مؤقف منوا چکا ہے۔ یہ انقلاب اس بات کا مظہر ہے کہ اگر ایک ملت ایمان، اتحاد اور بابصیرت قیادت پر یقین رکھے تو سامراجی طاقتوں کے محاصروں کے باوجود اپنے نظریات کو زندہ رکھ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے مظلوم اقوام بالخصوص فلسطین اور غزہ کے نہتے عوام کی نہ صرف اخلاقی بلکہ عملی حمایت کر کے امتِ مسلمہ کے ضمیر کو زندہ رکھا۔ انقلاب اسلامی نے خطے میں امریکی، اسرائیلی اور یورپی اثر و نفوذ کو کمزور کیا اور امت کو بیدار کیا کہ آزادی اور خودمختاری قربانی کے بغیر ممکن نہیں۔
چیئرمین جعفریہ سپریم کونسل نے کہا کہ انقلاب اسلامی کا سب سے بڑا درس اتحادِ امت، خود انحصاری، اور استعماری نظاموں سے نجات ہے۔ آج جب عالمی سامراج امت مسلمہ کو تفرقہ، جنگوں اور معیشتی غلامی میں الجھانے کی کوشش کر رہا ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے داخلی اختلافات ختم کر کے قرآن و اہل بیت علیہم السلام کے بتائے ہوئے اصولوں پر جمع ہوں، تاکہ ہم ایک باوقار، آزاد اور خودمختار امت کے طور پر دنیا میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ انقلابِ اسلامی ایران ایک وقتی یا علاقائی تحریک نہیں بلکہ ایک شعوری، فکری اور الٰہی انقلاب ہے جو آج بھی مظلوموں کے لیے اُمید اور ظالموں کے لیے خوف کی علامت بنا ہوا ہے۔









آپ کا تبصرہ